سورۃ التیْن

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ کے فیوض و برکات کے ساتھ، جو ازل سے بے پایاں محبت و شفقت کرنے، حسین و لذیذ نعمتوں، دنیوی و اخروی حسنہ اور انعام و اکرام سے نوازتے رہنے والا۔ بے انتہا ترس کھانے، درگزر کرنے، دکھ درد دور کرنے، بار بار رحم و کرم اور رحمت ارزانی کرنے، سیآت کو محو کرنے اور ان کو حسنات میں بدلنے والا ہے۔
وَالتِّیْنِ وَالزَّیْْتُونِ (1)
-1 قسم ہے سرزمین تین 1 کی (جہاں حضرت نوحؑ کی بعثت ہوئی تھی اور انہوں نے دعوت توحید کا آغاز کیا تھا) اور کوہ زیتون 2 کی قسم ہے (جہاں حضرت عیسیٰؑ کی بعثت ہوئی تھی)۔
حواشی -1 التین ایک پہاڑی کا نام ہے، جہاں حضرت نوحؑ نے مشرکوں کو دعوت توحید دی تھی (لغات القرآن، بذیل مادہ زی ت)۔
-2 الزیتون: فلسطین میں ایک پہاڑی کا نام زیتا ہے، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
مبعوث ہوئے تھے (لطائف اللغۃ میں اسے جبل شام لکھا ہے)۔ کشاف، بیضادی، جلالین اور تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ التین اور الزیتون ارض مقدس (یروشلم) میں پہاڑوں کے نام ہیں۔
وَطُورِ سِیْنِیْنَ (2)
-2 نیز قسم ہے کوہ طور سینا کی (جہاں حضرت موسیٰؑ کو رسالت کا اشراد الٰہی ملا تھا)۔
وَہَذَا الْبَلَدِ الْأَمِیْنِ (3)
-3 اور اس بے آب و گیاہ شہر کی قسم جو اللہ کے گھر کا امین اور جائے امن ہے (اور جو حضرت محمدﷺ کا مولد و منشا (Birth and dwelling place) اور ان کی بعث و دعوت توحید کا اولین مقام ہے3۔
حواشی -3 یہ چاروں جگہیں جلیل القدر رسولوںؑ کی بعثت اور ان کی دعوت توحید کے انتہائی اہم و متبرک مقامات ہیں۔ بالفاظ دیگر، یہاں بنی نوع انسان کو انسانیت کے بلند ترین مقام پر پہنچانے کی غرض سے جلیل القدر انبیاء علیہم السلام نے دعوت توحید و اسلام کا آغاز کیا تھا۔ لیکن یہ انسان کا ظلم و جہل ہے کہ وہ اپنی پست ترین حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے، جو اس کی اس وقت تھی جب وہ ابھی آب و طین میں سفر زندگی کر رہا تھا۔ مثال کے طور پر، جس طرح وہ اب شکم مادر میں پیدائش سے پہلے پست ترین تخلیقی حالت میں ہوتا ہے۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (4)
-4 حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان (Human being) کو حسین ترین خلق و خلق پر تخلیق کیا ہے، یعنی انسان قدر و قامت اور شکل و صورت کے لحاظ سے بھی حسین ترین ہے اور اس کا باطنی نظام، یعنی حسی و قلبی نظام بھی احسن و اکمال ہے۔
ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ (5)
-5 لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم (اپنے قوانین مکافات عمل و احترام آرزو کے مطابق) اسے پھر اس کی (پہلی پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیتے ہیں4۔
حواشی -4 دیکھئے حاشیہ نمبر 3۔
إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَہُمْ أَجْرٌ غَیْْرُ مَمْنُونٍ (6)
-6 لیکن ان لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اور نہ ہوتا ہے جو ایمان لاتے اور عدل و احسان، اصلاح اور حقوق انسانی (Human rights) کی پاسداری کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کو لامتناہی اجر ملے گا۔
فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ (7)
-7 (اے انسان! لامتناہی اجر کے ہوتے ہوئے) تم روز حساب و جزا کو کیوں جھٹلاتے ہو؟
أَلَیْْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ (8)
-8 کیا اللہ سب حاکموں کا حکم نہیں 5 ہے؟ (یقینا ہے)۔
حواشی -5 یہ جملہ استفہامیہ اقرار یہ ہے۔ اس میں یہ نکتہ مضمر ہے کہ دنیا میں بالخصوص حکم صرف اللہ تعالیٰ کا چلے گا، کسی اور کام نہیں، لہٰذا صرف اللہ کا حکم ماننا ہی انسان پر فرض ہے۔ دوسروں پر اپنا حکم چلانے والا فرعون ہوتا ہے۔

سورۃ الناس

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ کے فیوض و برکات کے ساتھ، جو ازل سے بے پایاں محبت و شفقت کرنے، حسین و لذیذ نعمتوں، دنیوی و اخروی حسنہ اور انعام و اکرام سے نوازتے رہنے والا۔ بے انتہا ترس کھانے، درگزر کرنے، دکھ درد دور کرنے، بار بار رحم و کرم اور رحمت ارزانی کرنے، سیآت کو محو کرنے اور ان کو حسنات میں بدلنے والا ہے۔
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1)
-1 (اے انسان!) یہ دعا ہمیشہ مانگا کرو: میں بنی نوع انسان (Mankind) کے نشوونما کرنے والے (=رب) کی پناہ (Refuge) میں آنے اور رہنے کا طلبگار و آرزو مند ہوں۔
مَلِکِ النَّاسِ (2)
-2 جو بنی نوع انسان کا حقیقی بادشاہ ہے۔
إِلَہِ النَّاسِ (3)
-3 اور بنی نوع انسان کا حقیقی معبود و حاکم ہے۔
مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4)
-4 (نیز) خناس یعنی شر انگیزی کرنے کے بعد ہٹ جانے والے کی وسوسہ اندازی (Evil suggesting) کی مضرت و آفت سے (بھی اللہ کی پناہ کا طلبگار ہوں)۔
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُورِ النَّاسِ (5)
-5 یہ وہ ہے جو لوگوں کے باطنی نظام میں وسوسے یعنی شکوک و شبہات و بری خواہشات اور بدگمانیاں ڈالتا ہے۔
مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ (6)
-6 وہ جنات (Jinns) میں سے ہو یا انسانوں میں ہے۔
نکتہ: یہاں اللہ نے غیر مبہم اور واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ’’جنات‘‘ اور انسان دو مختلف جنسیں ہیں!

سورۃ الفلق

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ کے فیوض و برکات کے ساتھ، جو ازل سے بے پایاں محبت و شفقت کرنے، حسین و لذیذ نعمتوں، دنیوی و اخروی حسنہ اور انعام و اکرام سے نوازتے رہنے والا۔ بے انتہا ترس کھانے، درگزر کرنے، دکھ درد دور کرنے، بار بار رحم و کرم اور رحمت ارزانی کرنے، سیآت کو محو کرنے اور ان کو حسنات میں بدلنے والا ہے۔
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1)
-1 (اے انسان!) یہ دعا مانگنا اپنا شعار کر لو کہ میں اس رب کی پناہ میں آنے اور رہنے کا طلبگار و خواہش مند ہوں، جو اپنے بندوں کے مادی و جمالیاتی فوائد کیلئے بوقت ضرورت اپنی مخلوقات کو شق1 کرنے والا ہے۔
حواشی -1 مثلاً وہ زمین میں بیج کو شق کرتا ہے تاکہ وہ نشوونما پائے، اسی طرح وہ حیاتیاتی مائوں کے رحموں کو بچوں کی پیدائش کیلئے شق کرتا ہے، نیز ذرات کو پھاڑ کر جوہری توانائی پیدا کرتا اور ظلمت کو پھاڑ کر اجالا پیدا کرتا ہے۔
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ (2)
-2 ہر ہر اس چیز کی مضرت و آفت سے جو اس نے تخلیق کی ہے۔
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3)
-3 نیز تاریک رات اور کفر و شرک اور ظلم و عدوان کے اندھیرے سے جب وہ گہرا ہو جائے (پناہ مانگتا ہوں)۔
وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِیْ الْعُقَدِ (4)
-4 اور ان لوگوں کے ضرر سے بھی پناہ مانگتا ہوں جو قسموں اور معاہدوں میں رخنہ 2 اندازی کرتے ہیں۔
حواشی -2 اکثر مترجمین اس آیت کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ گنڈوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکنے والوں کی برائی سے (Malignant mischief)
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5)
-5 علاوہ بریں، میں حاسد قکی مضرت و آفت سے بھی (اللہ کی) پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرنے لگے۔

سورۃ الإخلاص

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ کے فیوض و برکات کے ساتھ، جو ازل سے بے پایاں محبت و شفقت کرنے، حسین و لذیذ نعمتوں، دنیوی و اخروی حسنہ اور انعام و اکرام سے نوازتے رہنے والا۔ بے انتہا ترس کھانے، درگزر کرنے، دکھ درد دور کرنے، بار بار رحم و کرم اور رحمت ارزانی کرنے، سیآت کو محو کرنے اور ان کو حسنات میں بدلنے والا ہے۔
قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ (1)
-1 اس حقیقت کا برملا اعتراف و اعلان کرو کہ صرف ایک اللہ ہی ہے جو یکتا ہے (اس لئے کہ اس کے سوا باقی تمام مخلوقات یا موجودات زوجین یا جوڑا جوڑا ہیں)۔
اللَّہُ الصَّمَدُ (2)
-2 اللہ صمد ہے (اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر چیز مثلاً زوج، معاون، شریک، اولاد، خواہش و تمنا وغیرہ وغیرہ سے بے احتیاج و بے نیاز ہے، اگرچہ ہر چیز اس کی حاجت مند اور فقیر و سائل ہے)۔
لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ (3)
-3 اس نے کسی کو نہیں جنا (He begot not anyone) اور نہ کسی نے اسے جنا ہے (اس لئے بھی کہ وہ سبحان ہے اور اس کا کوئی زوج نہیں، نیز وہ اس سے بے احتیاج و بے نیا زہے۔ لہٰذا اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی اور نہ اس کا کوئی باپ ہی ہے)۔
وَلَمْ یَکُن لَّہُ کُفُواً أَحَدٌ (4)
-4 علاوہ بریں، اس کا کوئی ہمسر ہے نہ مثیل۔ وہ ہر حال میں یکتا و بے احتیاج ہے (مختصر یہ کہ وہ وحدہ لاشریک ہے)۔

Quran live

Play
fullscreen
Play Pause

Hello world!

Featured

Welcome to A2Z Advertising

Pakistani Newspapers Advertisements, Website, Social Media, Safety films, Editing voice Over etc.
A2Z ADs, Book your Classified & Display Advertisement. Online Booking, Approval and Online Payment, Jazcash, easypisa, Bank. Just give us Call or Whatsapp: 03008415644, Ptcl 042-35746611, Email: a2znasir@gmail.com